Social Media Se Deen E Islam Seekhne Se Pehle Ye Article Zaroor Padhen
بسم الله الرحمن الرحيم السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ صغير أحمد عمري .. 🖊 جب سے سوشل میڈیا کا دور شروع ہوا ہے ۔ لوگوں کے پڑھنے کا رواج بھی بڑھ گیا ہے ۔ پہلے عام آدمی دینی باتیں صرف مسجد سے لیتا تھا اور چند ایک لوگ تھے جنہیں کتابیں پڑھنے کی توفیق ہوتی تھی ۔ اب جب پڑھنے کا رواج بڑھ گیا ہے تو یہ سوشل میڈیا کی مہربانی ہے ۔ جو بھی ہو یہ ایک خوش کن اور اچھی بات ہے ، لیکن یہ اچھی بات اسی وقت ہوگی جب بندہ کام کی چیزیں پڑھے جس سے اس کے دین اور دنیا کا ، یا دونوں میں سے کسی ایک کا فائدہ ہو ۔ بے کار کی فالتو باتیں جس کا کوئی فائدہ نہ ہو ، بس انٹرٹینمنٹ ہو ، ٹائم پاس ہو ، تو پھر کوئی مطلب نہیں ۔ایسی پڑھائی کا ۔ اسی طرح دین کو لیکر بھی سوشل میڈیا پر روزانہ ڈھیر سارا مواد گشت کرتے رہتا ہے جس میں بے سروپا باتیں بھی ہوتی ہیں ، من گھڑت ، بے بنیاد ، غیر معقول واقعات ، قصے کہانیاں بھی ، صحیح ، درست اور حقیقی علم دین بھی ، اب سارے لوگوں کی صلاحیت اور قابلیت تو ایسی نہیں کہ وہ اتنے سارے ڈھیر میں سے ، صحیح اور غلط کی پہچان کرے ،...